Washington Sundar: A Rising Star in Indian Cricket
Javed Iqbal's Blog A space where creativity meets knowledge. This blog is a personal journal of Javed Iqbal, offering insights into various topics ranging from technology, personal development, lifestyle, and more. Whether you're looking for thought-provoking articles, tips for self-improvement, or the latest trends in tech, Javed Iqbal's blog provides engaging content with a unique perspective. Stay tuned for fresh ideas, helpful guides, and inspiring stories to enrich your everyday life.
سری لنکا بمقابلہ پاکستان: تازہ ترین میچ ریکیپ
سری لنکا اور پاکستان کے درمیان سنسنی خیز مقابلے میں
دونوں ٹیموں نے اپنی صلاحیتوں اور عزم کا مظاہرہ کیا لیکن یہ پاکستان ہی تھا جو
سنسنی خیز مقابلے میں اپنے حریفوں کو شکست دینے میں کامیاب رہا۔ اس دلچسپ میچ کے
اہم لمحات اور پرفارمنس کا خلاصہ یہ ہے۔
میچ کا جائزہ
سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تازہ ترین تصادم **29
نومبر 2025** کو مشہور **قذافی اسٹیڈیم**، لاہور میں ہوا۔ یہ میچ **آئی سی سی مینز
کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ** کا حصہ تھا، اور دونوں ٹیمیں ایک اہم جیت کے ساتھ پوائنٹس
ٹیبل پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس میچ میں جارحانہ بلے
بازی، تیز گیند بازی، اور کچھ غیر معمولی فیلڈنگ کا امتزاج تھا، جس نے شائقین کو
اپنی نشستوں کے کنارے پر رکھا۔
سری لنکا کی بلے بازی کی کارکردگی
سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرتے
ہوئے ایک چیلنجنگ ٹوٹل سیٹ کرنے کی امید کی۔ سری لنکا کے ٹاپ آرڈر نے، جس کی قیادت
ہمیشہ قابل بھروسہ **کوسل مینڈس** نے کی، نے اننگز کا آغاز محتاط لیکن ثابت قدمی
سے کیا۔ پورے ٹورنامنٹ میں شاندار فارم میں رہنے والے مینڈس نے آف سائیڈ کے ذریعے
کئی خوبصورت ڈرائیوز کھیلتے ہوئے اننگز کو اچھی طرح سے آگے بڑھایا۔
*
**کوسل مینڈس** (70 گیندوں پر 58) سری لنکا کے لئے سب سے
زیادہ اسکورر تھے، لیکن ان کی اننگز ٹیم کو ایک مشکل اسکور کرنے میں مدد دینے کے لیے
کافی نہیں تھی۔ ان کی اننگز اگرچہ ٹھوس تھی، لیکن درمیانی اوورز میں پاکستانی گیند
بازوں کو حقیقی معنوں میں چیلنج کرنے کے لیے درکار تیز رفتاری کی کمی تھی۔
*
**پتھم نسانکا** (43 گیندوں پر 30) اور **چرتھ اسالنکا**
(33 گیندوں پر 27) نے مختصر مدد فراہم کی لیکن وہ اپنے آغاز کو بڑے اسکور میں تبدیل
کرنے میں ناکام رہے۔ پیس اٹیک کی قیادت میں پاکستانی باؤلرز نے اسکورنگ ریٹ پر
مضبوط گرفت رکھی۔
سری لنکا کی اننگز میں اہم موڑ اس وقت آیا جب **شاہین
شاہ آفریدی** نے کھیل کو بدلنے والا جادو پیش کیا۔ آفریدی، جو باؤنس اور سوئنگ پیدا
کرنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں، نے اپنے پورے سپیل میں سری لنکن بلے بازوں کو پریشان
کیا۔ اس کی تیز گیندوں اور درستگی کی وجہ سے مڈل آرڈر تیزی سے گر گیا۔
*
**شاہین شاہ آفریدی** (9 اوورز میں 4/33) اسٹینڈ آؤٹ بولر
تھے، ان کی رفتار سری لنکا کے بلے بازوں کے لیے بہت زیادہ ثابت ہوئی۔ ان کی چار
وکٹیں، بشمول مینڈس اور اسالنکا کے اہم آؤٹ، نے سری لنکا کو 50 اوورز میں **214/8*
تک محدود کر دیا۔
پاکستان کا پیچھا
جواب میں، پاکستان ارادے کے ساتھ میدان میں آیا، یہ
جانتے ہوئے کہ 215 کا ہدف ٹھوس شراکت داری سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اوپنرز **بابر
اعظم** اور **فخر زمان** نے محتاط انداز میں آغاز کیا، لیکن ان پر تیزی لانے کا
دباؤ تھا کیونکہ سری لنکا کے باؤلرز، **ونیندو ہسرنگا** کی قیادت میں، ابتدائی
اوورز میں چیزوں کو تنگ کرتے رہے۔
*
**بابر اعظم** (92 گیندوں پر 75) پاکستان کے اینکر تھے،
اپنے معمول کے فضل اور صبر کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اس نے **فخر زمان** کے ساتھ
بالکل جوڑ دیا، جس نے دوسرے سرے پر ضروری آتش بازی فراہم کی۔ زمان کے 35 گیندوں پر
تیز رفتار 41 رنز نے اننگز میں انتہائی ضروری رفتار کو انجیکشن دیا۔
تعاقب کی اصل خاص بات اس وقت ہوئی جب **شاداب خان** (39
گیندوں پر 42) اور **محمد رضوان** (22 گیندوں پر 28*) نے 47ویں اوور میں پاکستان
کو ہدف حاصل کرنے میں مدد کی۔ شاداب کی تیز اسکورنگ اور رضوان کے پرسکون انداز نے
پاکستان کو **تین اوورز باقی** کے ساتھ چھ وکٹوں سے فتح حاصل کرنے میں مدد کی۔
اہم پرفارمنس اور لمحات
**شاہین
شاہ آفریدی** بلاشبہ گیند کے ساتھ میچ کے اسٹار رہے۔ اس کی رفتار اور درستگی سری
لنکا کے مڈل اور لوئر آرڈر کے لیے بہت زیادہ تھی، اور اس کی کارکردگی نے پاکستان
کے تعاقب کا مرحلہ طے کیا۔
*
**بابر اعظم** نے ایک بار پھر دنیا کے بہترین ون ڈے بلے
بازوں میں سے ایک کے طور پر اپنی قابلیت ثابت کردی، دباؤ کی صورتحال میں سامنے سے
قیادت کرتے ہوئے۔
*
**کوسل مینڈس** سری لنکا کے لیے واحد جنگجو تھے، لیکن انھیں
اپنے ساتھیوں کی حمایت کی کمی تھی، اور مڈل آرڈر کی ناکامی آخر میں مہنگی ثابت ہوئی۔
*
**سری لنکا کی فیلڈنگ** متاثر کن تھی، جس میں **داسن
شناکا** اور **وانندو ہاسرنگا** نے کچھ شاندار اسٹاپ کھینچے، لیکن یہ معمولی ٹوٹل
کا دفاع کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔
نتیجہ
پاکستان کی اچھی کارکردگی نے انہیں اس قریبی مقابلے
والے میچ میں ٹاپ پر آتے دیکھا۔ سری لنکا کی مضبوط باؤلنگ کوششوں کے باوجود، خاص
طور پر ہسرنگا کی طرف سے، یہ پاکستان کا نظم و ضبط اور کمپوزر تھا جو فیصلہ کن
ثابت ہوا۔ **بابر اعظم** کے سامنے سے قیادت کرتے ہوئے، پاکستان نے یہ ظاہر کیا کہ
وہ عالمی کرکٹ کی خطرناک ترین ٹیموں میں سے ایک کیوں ہیں۔
اس فتح نے نہ صرف آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ میں
پاکستان کی پوزیشن کو بڑھایا بلکہ انہیں اپنے آنے والے فکسچر میں جانے کے لیے
انتہائی ضروری اعتماد بھی دیا۔ سری لنکا کے لیے، یہ ایک سخت شکست تھی، لیکن وہ
اپنے اگلے میچ سے پہلے واپس اچھالنے اور دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کرے گا۔ کھیل
نے، اگرچہ، شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا اور 50 اوورز کے دوران دباؤ کو
برقرار رکھا۔
دونوں ٹیمیں اب اپنی اگلی اسائنمنٹس کے منتظر ہیں،
پاکستان کا مقابلہ ہندوستان کے خلاف انتہائی متوقع مقابلے میں ہوگا، جب کہ سری
لنکا کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے ہوگا جس میں ایک اور دلچسپ جنگ کا وعدہ کیا گیا
ہے۔ مقابلہ سخت ہے، اور ہر میچ 2023 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے
اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
Sri Lanka vs Pakistan: Latest MatchRecap
Comments