The government has increased the fees for stamp papers immensely, causing outrage among the students.
The government has increased the fees forstamp papers immensely, causing outrage among the students.
حکومت نے اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں بے پناہ
اضافہ کر دیا ہے، سائلین کی چیخیں نکل گئیں
حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں اسٹامپ پیپرز
کی فیسوں میں کیے گئے ہوشربا اضافے نے عام شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر
دیا ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت، عدالتی مقدمات، معاہدوں اور دیگر قانونی امور کے
لیے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپرز اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
اس اچانک اضافے کے بعد سائلین، وکلا اور پراپرٹی ڈیلرز سبھی سراپا احتجاج ہیں۔
اسٹامپ پیپرز کیا ہیں اور
کیوں ضروری ہیں؟
اسٹامپ پیپرز قانونی دستاویزات کی بنیاد سمجھے
جاتے ہیں۔ زمین کی رجسٹری، کرایہ نامہ، پاور آف اٹارنی، عدالتی درخواستیں اور
مختلف قسم کے معاہدے انہی پیپرز پر تیار کیے جاتے ہیں۔ گویا یہ کاغذ نہیں بلکہ
شہری کے قانونی حقوق کی ضمانت ہوتے ہیں۔ لیکن جب انہی حقوق کے حصول کی قیمت آسمان
سے باتیں کرنے لگے تو مسائل جنم لینا لازمی ہو جاتا ہے۔
فیسوں میں اضافے کا پس منظر
حکومتی مؤقف کے مطابق اسٹامپ فیسوں میں اضافہ
ریونیو بڑھانے اور نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ
مہنگائی کے موجودہ دور میں ریاستی اخراجات پورے کرنے کے لیے ایسے فیصلے ناگزیر
ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیشہ بوجھ صرف عام شہری ہی پر ڈال دیا
جائے؟
سائلین کی مشکلات میں اضافہ
اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ان لوگوں پر پڑا
ہے جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے والے سائلین
اب فیسوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے
لیے درخواست دائر کرنا چاہتے ہیں مگر مہنگے اسٹامپ پیپرز ان کے راستے کی سب سے بڑی
رکاوٹ بن چکے ہیں۔ یوں انصاف حاصل کرنا بھی امیروں کا استحقاق بنتا جا رہا ہے۔
وکلا اور عوامی حلقوں کا
ردِعمل
وکلا برادری نے بھی اس فیصلے پر شدید تحفظات کا
اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اسٹامپ فیسوں میں اضافہ براہِ راست عدالتی نظام پر منفی
اثر ڈالے گا۔ مقدمات کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور لوگ غیر قانونی یا غیر رسمی
طریقوں سے معاملات نمٹانے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے بدعنوانی میں اضافہ ہونے کا
خدشہ ہے۔
عوامی حلقوں میں بھی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر شہری حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے
ہیں کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
کیا متبادل حل موجود ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریونیو بڑھانے کے لیے عام
شہریوں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جانا چاہیے۔ بڑے سرمایہ
داروں، ٹیکس چوروں اور بااثر طبقے سے مؤثر انداز میں ٹیکس وصول کر کے بھی ریاستی
آمدن میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں مرحلہ وار
اور محدود اضافہ زیادہ مناسب حل ہو سکتا تھا۔
نتیجہ
اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں بے پناہ اضافہ بظاہر
ایک انتظامی فیصلہ ہے، مگر اس کے اثرات دور رس اور خطرناک ہیں۔ اگر حکومت نے بروقت
اس پر نظرثانی نہ کی تو عام شہری کا نظامِ انصاف سے اعتماد اٹھ سکتا ہے۔ ضرورت اس
امر کی ہے کہ عوامی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جائیں جو ریاست اور
شہری، دونوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
javediqbal1424@gmail.com