اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی
کبھی کبھی کسی ائیرپورٹ پر کھڑے ہو کر
اُن آنکھوں کو دیکھیں جو اپنے وطن سے رخصت ہو رہی ہوتی ہیں۔ ان میں خوشی کم اور بے
بسی زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، باپ کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی
ہے، مگر وہ مسکراہٹ صرف اپنے بچے کو حوصلہ دینے کے لیے ہوتی ہے۔ دل کے اندر تو ایک
طوفان برپا ہوتا ہے۔
کوئی بھی انسان شوق سے اپنا گھر، اپنی
گلی، اپنی مٹی اور اپنے پیاروں کو نہیں چھوڑتا۔ ہجرت ہمیشہ خوابوں کی نہیں،
مجبوریوں کی کہانی ہوتی ہے۔
جب ایک نوجوان برسوں پڑھنے کے بعد بھی
روزگار کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے، جب ہر جگہ اس سے قابلیت نہیں بلکہ سفارش
پوچھی جائے، جب حق لینے کے لیے بھی رشوت دینی پڑے، تو پھر اس کے دل میں اپنے وطن
کے لیے امید کی شمع مدھم ہونے لگتی ہے۔ آخرکار وہ ایک ایسا فیصلہ کرتا ہے جس میں
جان کا خطرہ بھی ہوتا ہے، مگر پھر بھی وہ اجنبی سرزمین کا سفر اختیار کر لیتا ہے۔
حال ہی میں سپین پہنچنے والے مراکشی
نوجوانوں کی خوشی پوری دنیا نے دیکھی۔ وہ خوشی ایسی تھی جیسے کوئی اندھیری رات کے
بعد پہلی بار سورج دیکھ رہا ہو۔ بعض نے جذبات میں آ کر کہا، "مراکش نہیں،
سپین زندہ باد۔"
یہ الفاظ شاید ان کے دل کی کیفیت تھے،
مگر اپنے وطن کے لیے ایک تلخ سوال بھی چھوڑ گئے۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ اپنی ہی مٹی
سے محبت پر مجبوری غالب آ گئی؟
کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی خزانہ
سونا، تیل یا معدنیات نہیں ہوتے، بلکہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ جب یہی نوجوان دوسرے
ملکوں کی تعمیر میں لگ جائیں تو سمجھ لیجیے کہ نقصان صرف ایک فرد کا نہیں، پوریقوم کا ہوا ہے۔
وہ نوجوان جو اپنے وطن میں بے روزگار
تھا، کسی دوسرے ملک میں جا کر فیکٹری چلاتا ہے، اسپتال میں خدمات انجام دیتا ہے،
نئی ایجادات کرتا ہے، ٹیکس دیتا ہے اور اسی ملک کی معیشت کو مضبوط بناتا ہے۔
انہی نوجوانوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے
ہیں جو دنیا بھر میں نام کماتے ہیں۔ لامین یامال جیسے باصلاحیت کھلاڑی اس بات کی
یاد دلاتے ہیں کہ صلاحیت کسی ایک سرحد کی محتاج نہیں ہوتی۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے
کہ کون سا ملک اس صلاحیت کو پہچانتا اور سنوارتا ہے۔
آج یورپ کے کئی ممالک کو نوجوان
افرادی قوت کی ضرورت ہے، جبکہ ہمارے ممالک کے نوجوان مواقع کی تلاش میں دربدر ہیں۔
ایک طرف ضرورت ہے، دوسری طرف ناامیدی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ملک اپنا مستقبل کھو
دیتا ہے اور دوسرا اسی مستقبل کو اپنا سرمایہ بنا لیتا ہے۔
اگر میرٹ کو عزت ملے، انصاف عام ہو،
تعلیم کے بعد روزگار میسر ہو اور محنت کرنے والے کو اس کا حق ملے، تو شاید کوئی
ماں اپنے بیٹے کو ہزاروں میل دور بھیجنے پر مجبور نہ ہو۔
وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا،
یہ یادوں، رشتوں، محبتوں اور پہچان کا نام ہے۔ مگر جب یہی وطن اپنے بچوں کے خوابوں
کی حفاظت نہ کر سکے تو پھر خواب سرحدیں عبور کر جاتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اس وقت کمزور
نہیں ہوتیں جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے
نوجوان امید کھو بیٹھیں۔
شاید واقعی... اس عہد کے سلطان سے کچھ
بھول ہوئی ہے۔
Something, was, forgotten, by, the, sultan, of, this, era,
